(1)
اسلامک فقہ اکیڈمی
انڈیا
فقہ اکیڈمی انڈیا
نے ”احکام شرعیہ میں تبدیلی حقیقت کے
اثرات “ کے عنوان پر مستقل طور تیرہواں
اجلاس بتاریخ 13 تا 16 اپریل 2001 ملیح آباد لکھنؤ میں منعقد کیا جس میں ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب،کویت،قطر،عراق،بنگلہ دیش اور نیپال
سے تقریبا دوسو علماء کرام،مفتیان عظام ڈاکٹر حضرات اور فارماسسٹ شریک ہوئے جس میں
درج ذیل قراردایں منظور کی گئیں
شریعت
میں جن اشیاء کو حرام یا ناپاک قراردیا
گیا ہے ، ان کی حرمت و نجاست اس شئی کی ذات
متعلق ہے اگر کسی انسانی فعل کے بغیر طبعی اور ماحولیاتی اثر کے تحت اس شئی کی اصل حقیقت اور ماہیت تبدیل ہوگئی تو اس شئی کا سابق حکم
باقی نہیں رہے گا اس میں نجس العین اور
غیر نجس العین کا کوئی فرق نہیں
تبدیلی
ماہیت سے مراد یہ ہے کہ اس شئی کے وہ خصوصی اوصاف بدل جائیں جن سے اس شئی کی شناخت
متعلق ہے ،دوسرے غیر مؤثر اوصاف جو اس شئی کی حقیقت میں داخل نہیں اس شئی میں باقی رہ جانا تبدیلی ماہیت میں مانع
نہیں
اگر
حلال وپاک اشیاء میں حرام اور ناپاک شئی
کا صرف اختلاط ہو ،اصل حقیقت تبدیل نہ ہو
تو وہ حرام اور ناپاک ہی رہے گی
یہ
سیمینار محسوس کرتا ہے کہ الکحل اور جیلاٹین
وغیرہ میں قلب ماہیت کے متحقق ہونے
یا نہ ہونے کے سلسلہ میں کوئی قطعی رائے قائم کرنے سے پہلے ماہرین کیمیاء سے مناسب
معلومات حاصل کرنا ضروری ہے ۔۔۔ اس
لیے اس موضوع پر فیصلہ کو کسی قریبی آئندہ سیمینار تک ملتوی
رکھاجائے اور پہلے اس سلسلہ میں
ماہرین سے ضروری معلومات حاصل کی جائیں[i]
چنانچہ فقہ اسلامی
اکیڈمی انڈیا نے اس اجلاس کے فیصلے اور
تجویز کی روشنی میں اپنا چودہواں بمقام حیدرآباد بتاریخ 20 تا 22 جون
2004 منعقد کیا جس میں اڑھائی سو سے زیادہ اصحاب فقہ و
افتاء اور میڈیکل سائنس ،ادویہ اور
فارما کے ماہرین نے شرکت کی جس میں
درج ذیل قراردادیں منظور کی گئیں
جلاٹین ایک نامیاتی (Organic)مرکب ہے جو ایک قسم کا پروٹین ہے یہ جانوروں کی کھال اور ہڈیوں
میں موجود ایک دیگر قسم کے کے پروٹین کولاجن (Collagen) سے کیمیائی تبدیلیوں کے
بعد بنایا جاتا ہے جو کیمیائی اور طبعی
طور سے کولاجن سے یکسر مختلف ایک نئی قسم
کی پروٹین کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اپنی رنگت ،بو،ذائقہ اور خصوصیات میں بھی
کولاجن سے جدا ہوتا ہے
شریعت نے جن اشیاء
کو حرام قراردیا ہے اگر ان کی حقیقت اور ماہیت تبدیل ہوجائے تو ان کا سابق حکم
باقی نہیں رہتا ۔۔۔اکیڈمی کے سامنے فنی ماہرین
کے ذریعہ جو تحقیق سامنے آئی ہے اس
کے مطابق جلاٹین میں ان جانوروں کی کھالوں اور ہڈیوں کی حقیقت باقی نہیں رہتی ہے جن کے کولاجن سے جیلاٹین بنایاجاتا ہے بلکہ
وہ ایک نئی حقیقت کے ساتھ نئی چیز ہوجاتی ہے اس لیے اس کے استعمال کی گنجائش
ہے [ii]
[i]
جدید فقہی
مسائل(احکام شرعیہ میں تبدیلی حقیقت کے اثرات ) قاضی مجاد الاسلام قاسمی فقہ
اسلامی اکیڈمی انڈیا ص 36
[ii]
ایضا ص 37نوٹ:۔ اگر آپ کو یہ پوسٹ مفید معلوم ہو تو فیس بک کے بٹن کو دبا کر اسے لائک اور شیئر کردیں تاکہ دوسروں کو بھی فائدہ ہو


Post A Comment: