استحالہ سے متعلق مجامع فقہیہ کی آراء کا تقابلی جائزہ
ڈاکٹرمحبوب الرحمن
شاہ*[1]
استحالہ کی تعریف
علامہ خوارزمی لکھتے ہیں:
الإستحالة أن يخلع الشيء صورته ويلبس صورته
ويلبس صورة أخرى مثل الطعام الذي يصير دماً في الكبد ۔ [i]
کسی چیز کی اپنی
اصلی ہی شکل ہی بدل جائے اور کوئی
دوسری صورت یا شکل اختیار کرلے جیسے
کھانا جگر میں جاکر خون بن
جائے ۔
علامہ حموی استحالہ
کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
استحال الشيء
تغير عن طبعه ووصفه وحال يحول مثله۔[ii]
استحالہ کسی چیز کی طبعیت اور اس کےاوصاف کی
تبدیلی کو کہتے ہیں۔
جب کہ علامہ نشوان حمیری لکھتے ہیں
:
استحال الشيءُ إِذا تغيّر عن حاله[iii].
استحالہ کسی چیز کی حالت میں تغیر آجانے کو کہتے
ہیں ۔
صاحب معجم الفقہاء لکھتے ہیں : تغير ماهية الشئ تغيرا لا يقبل الاعادة۔ [iv]
کسی چیز کی حالت میں ایسی تبدیلی جس میں اعادہ ممکن نہ ہو۔
دور حاضر کے اہم فقہی ذخیرہ
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے :
فالاستحالة
قد تکون بمعنی التحول کاستحالة الأعیان النجسة من العذرة والخمر والخنزیر
وتحولہا
عن أعیانہا وتغیر أوصافہا وذلک با الاحتراق أو بالتخلیل أو بالوقوع فی شیء۔[v]
استحالہ کبھی کسی چیز کے اپنی حالت بدل دینے سے ہوتا ہے، جیسے
گوبر شراب اور سور جیسی ناپاک چیزوں کا اپنی ذات سے پھرجانا اوران کی صفات کا بدل جانا،
اور یہ تبدیلی کبھی چیز کے جلادینے سے یا شراب کو سرکہ بنانے سے یا کسی چیز میں ڈال
دینے سے ہوتی ہے۔
استحالہ سے متعلق مجامع فقہیہ کی آراء
دور حاضر تخصصات کا زمانہ ہے اب ایک ہی علم یا فن کی بیسیوں شاخیں بن گئیں ہیں
جن پر عبور اور مہارت کے لیے عمر نوح بھی
کم دکھائی دیتی نظر آرہی ہے اسی وجہ سے
کسی بھی مسئلہ کی حقیقت کی تہہ تک رسائی کے لیے اس سے متعلق اہم
امور اور ضروری معلومات کے حصول کے لیے اس کے بارے مین فنی ماہرین
کی آراء سے آگاہی بھی ضروری ہوگی
علاوہ ازیں جدید مواصلاتی ترقی نے پوری دنیا کو ایک عالمی گاؤں بناڈالا ہے
جس کی وجہ سے کوئی بھی فرد دور حاضر میں
حالات کی تبدیلی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا جس کی وجہ سے اسے ان تبدیل شدہ حالات کا
سامنا کیے بغیر چارہ کار نہیں جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے اسے قابل اعتماد راہنمائی درکار ہوگی جس کے لیے
اجتماعی طریقہ کار ہی کامیاب اور مفید ثابت ہوسکتا ہے جس کی ضرورت کا
احساس ہوچکا ہے اور دینی امور اور مسائل میں راہنمائی کے لیے مختلف ممالک میں فقہی اکیڈمیوں اور کونسلوں کے
قیام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعہ
دور حاضر میں پیش آنے والے متعددجدید فقہی مسائل
کا حل بہتر اور مناسب انداز حاصل کیا جاسکتا ہے اور دور حاضر کی شخصیات کی انفرادی آراء و افکار سے پیدا ہونے والے انتشارکا سدباب بھی
ہوسکتا ہے اور اس سلسلہ میں کافی قابل قدر
کام ہو رہا ہے
حوالہ
جات و حواشی
[i] مفاتيح
العلوم ص 161
[ii] المصباح المنير في غريب الشرح الكبير157/1
[iii] شمس العلوم ودواء كلام العرب
من الكلوم 1637/3
[iv] معجم لغة الفقهاء ص 59
نوٹ:۔ اگر آپ کو یہ پوسٹ مفید معلوم ہو تو فیس بک کے بٹن کو دبا کر اسے لائک اور شیئر کردیں تاکہ دوسروں کو بھی فائدہ ہو


Post A Comment: